|August 17, 2019
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

شعبہ جات

شعبۂ درسِ نظامی- عالم کورس:

اس شعبے مىں عالم كا كورس كراىا جاتا ہے، جس كا كل دورانىہ 8 سال ہے۔ درسِ نظامی میں تفسیر،اصولِ تفسیر،حدیث،اصولِ حدیث،فقہ ،اصولِ فقہ،عربی گرامر (صرف ونحو)منطق اور عربی ادب وغىرہ پڑھائے جاتے ہىں،جس کے بعد طلبہ میں اتنی استعداد پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ کو خود سمجھ سکیں اور
علمِ الٰہی کے بحرِ بیکراں سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق علم ومعرفت کے موتی نکال سکیں ۔

جامعہ میں اب تک اس شعبے میں ابتدائی درجات(متوسطہ سوم،اولیٰ ،ثانیہ،ثالثہ،رابعہ خامسہ اور سادسہ ) کی تعلیم دی جارہی ہے ،جن میں تقریباً 85 2طلبہ زیرِ تعلیم ہیں ،اس سلسلے كو آگے انشاء اللہ درجہ ٔ سابعہ تك بڑھانے کا ارادہ ہے۔اس کے بعد جامعہ كے طلبہ كو اکابرىن كى خدمت مىں بقىہ تعلىم كے لىے بھىجا جائے گا، تاكہ طلبہ ان كے سامنے زانوئے تلمذ تہ كركے اعلى تعلیم کے ساتھ ساتھ فیوض وبرکات اور بہترىن تربىت سے بھى بہرہ ور ہوں ۔

جامعہ مىں طلبہ(خاص كر اولىٰ اور اس سے اعلىٰ درجات كے طلبہ ) پر عربی زبان مىں تکلّم (بول چال ) کااہتمام کرنا لازم ہے ،یہ اصول ان کے تعلیمی فرائض میں شامل ہے۔جس کی خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب تنبیہ کی جاتی ہے۔اس كے علاوہ طلبہ میں عربی زبان کا ذوق پروان چڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً عرب علما کو مدعو کیا جاتا ہے جو اپنے قیمتی محاضرات سے انہیں مستفید فرماتے رہتےہیں ۔

جامعہ کی انتظامیہ کی یہ خواہش ہے کہ تعلیمی درجات خواہ کم ہی ہو ں،لیکن ان پر توجہ بھرپورہو،تاکہ پڑھائی کا معیار زیادہ سے زیادہ بہترہوسکے۔یہی وجہ ہے کہ سہ ماہی ،ششماہی اور سالانہ امتحانات میں جہاں ہر کتاب کا تحریری امتحان ہوتا ہے،وہاں ہر درجے كى اہم کتب(مثلاً صرف ،نحو،فقہ وغیرہ) کا تقریری امتحان بھی لیا جاتا ہے اور اس کے لیے شہر کے بڑے مدارس کے تجربہ کار اور ماہرینِ فن اساتذہ کو مدعو کیا جاتا ہےجو تشریف لاکر طلبہ کا تقریری امتحان لینے کے بعد جامعہ کے اساتذہ كو اپنے تدریسی تجربات کی روشنی میں قیمتی تجاویز اور مفىد آراء سے مستفید فرماتے ہیں۔

شعبۂ تحفیظ القرآن:

قرآن كرىم اللہ تعالى كى نازل كردہ وہ عظىم كتاب ہے، جس كى حفاظت كا ذمہ اللہ تعالى نے خود لىا ہے اور اللہ تعالىٰ كے دستِ قدرت مىں ہے كہ كسى بھى انسان كو ذرىعہ بنائے بغىر وہ اس كتاب كے ہر حرف اور حركت كو محفوظ ركھے، لىكن اللہ تعالىٰ كا ہزارہا شكر ہے كہ اس نے اس عظىم كام كے لىے اپنے بندوں كوذرىعہ و سبب بناىا اور ىہ ہمارى انتہائى خوش نصىبى اور نىك بختى ہوگى كہ ہم ىا ہمارا بچہ قرآن كى حفاظت كرنے والے لشكر كے سپاہى بن جائىں۔

جامعہ مىں قائم اس شعبے مىں اس وقت الحمد للہ آٹھ کلاسوں میں تقرىباً 185طلبہ قرآن ِكرىم كے نور سے اپنے سىنوں كو منوّر كررہے ہىں، جن كى تعلىم و تربىت كے واسطے 11ساتذۂ كرام شب و روز سرگرم ِ عمل رہتے ہىں۔

جامعہ کی ترجیحی بنیادوں پر ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہےکہ اس شعبہ مىں تعلىم کے لیے جہاں تک ممکن ہوسکے علماءاور مفتیانِ کرام ہی کی خدمات حاصل کی جائیں ،تاکہ وہ طلبہ کو صرف الفاظ کی ادائیگی ،تجوید اور تحسین کا ہی علم نہ سکھائیں ،بلکہ وہ اس كے ساتھ طلبہ كى ذہنى تعمىر ، اخلاقِ حسنہ كى تربىت، بنىادى مسائل اور مسنون دعاؤں سےبھى طلباکوروشناس کریں ۔

اب تك الحمد للہ كل 52بچے حفظِ قرآن پاك كى سعادت حاصل كر چكے ہىں۔

جامعہ کے شعبۂ حفظ مىں طلبہ کو عربى لہجہ سکھانے اور تلفظ کی ادائیگی مىں عمدگى پىدا كرنے كى خاطر استاذ کی تربیت کے ساتھ ساتھ روزانہ 20سے25 منٹ عرب قرّاء میں سے "قاری صدیق منشاوی،شیخ ایوب ،شیخ مشاری بن راشدالعفاسی" کی تلاوت بھی سنائی جاتی ہے جس کے بعد استاذ کی نگرانی میں ہر طالب علم عربی لہجے میں پڑھنے کی مشق کرتا ہے ، جس كى بدولت طلبہ كے لہجوں مىں بہت بہترى آئى ہے۔ فلله الحمد!

جامعہ مىں بچوں کو قرآن اچھے اندازمیں پختہ یاد کرنے كا شوق پیدا کرنے کے لیے ہر جمعرات کے دن ان کے درمیان ایک مسابقہ(مقابلہ) رکھا جاتا ہے ،جس میں ہر بچے کا حصہ لینا ضروری ہوتا ہے ۔شعبۂ حفظ کا کوئی ایک استاذ ہر بچے کے لیے تین تین سوال تیار کرتا ہے ،جبکہ دو استاذ منصف کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔اس طرح بچے کی منزل کا بھی امتحان ہوجاتا ہے اور اس میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔

شعبۂ حفظ میں بڑے امتحان دو ہی ہوتے ہیں :ششماہی اور سالانہ،جن کے لیے ممتحنین اساتذہ باہر سے مدعو کیے جاتے ہیں ،لیکن اس کے علاوہ ہر ماہ کے آخر میں بچوں کا ایک ماہانہ جائزہ بھی ہوتا ہے جو کہ شعبۂ حفظ کے اساتذہ خود ہی آپس میں اىك دوسرے كى درسگاہ كا لیتے ہیں ،جس سے بچوں کی کیفیت اساتذہ کے سامنے آتی رہتی ہے اور بچے کی صحیح تعلیم وتربیت میں معاون ومددگا ر بنتی ہے۔

چونكہ حفظ كے طلبہ كا شعور اس درجے كا پختہ نہىں ہوتا، اور نوعمرى كى وجہ سے ان مىں كسى حد تك فطرتاً لاابالى پن بھى پاىا جاتا ہے، اس لىے ان كى عادات ، لباس، گفت و شنىد، تعلقات وغىرہ پر كڑى نگاہ ركھى جاتى ہے۔ درسگاہ مىں تو طلبہ اساتذہ كى نگاہوں كے سامنے ہى ہوتے ہىں ، مزىد ىہ كہ ہر طالبِ علم كے لىے صبح كى دوڑ اور شام كا كھىل لازمى ہے، جس مىں الحمد للہ اساتذۂ كرام بھى تربىت كى غرض سے شرىك رہتے ہىں، اسى طرح تىنوں وقت كاكھانا بھى اساتذۂ كرام طلبہ كے ساتھ ہى تناول فرماتے ہىں اور موقع بموقع كھانے كى سنتىں اور آداب كى طرف توجہ دلاتے رہتے ہىں۔

قرآنی کمپیوٹر:

شعبۂ تحفیظ القرآن کی ایک ذیلی شاخ ’’قرآنی کمپیوٹر ‘‘ بھی ہے ،اس میں ذہین اور باصلاحیت بچوں کو اس طور پر قرآن یا د کرایا جاتا ہے كہ صرف آیت نمبر اور سورت نمبر بتلاکر طالبِ علم سے سوال كرنے پر نہ صرف يہ كہ وہ پوچھى گئى آیت سناتا ہے،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تىن چىزوں كى تفصىل بتاتا ہے(١) منزل نمبر اور اس كے حروف، الفاظ، آىات، ركوع، صفحات اور سورتوں كى تعداد (٢) پارہ نمبر اور پارے كے حروف، الفاظ، آىات، ركوع، صفحات اور سورتوں كى تعداد (٣) سورت كا نام، اس کےحروف، الفاظ، آىات، ركوع اور صفحات كى تعداد،نیزہرصفحہ کی ابتدائی اورآخری آیت کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پڑھی ہوئی آیت سے پچھلی آیات کی نشاندہی بھی بچہ کرلیتاہے۔

اس سے جہاں بچے کی منزل پختہ ہوتی ہے ،وہیں ىہ بات بھى روزِ روشن كى طرح آشكارا ہوجاتى ہے كہ قرآن کریم اللہ تعالىٰ كى نازل كردہ وہ سچى كتاب ہے كہ جس كے عجائب و غرائب رہتى دنىا تك باقى رہىں گے ۔

اب تک الحمدللہ کل 2 بچے قرآن کریم کو کمپیوٹر کے اندازمیں اپنے سینوں میں محفوظ کر چکے ہیں ۔

حفاظ اسکول:

حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ بچوں کو روزانہ 45منٹ کے دورانیہ میں اردو ، انگلش اور رىاضى كے مضامىن اس طورپرپڑھائے جاتے ہیں کہ اس میں بچے کی ذہنی صلاحیت کو ملحوظ رکھاجاتاہے۔اس کے لیے بچوں کواعلیٰ تعلیم،متوسطہ اورادنیٰ کے اعتبارسے تین حصوں میں تقسیم کرکے انہیں مختلف کلاسوں کی انگلش ،اردواورریاضی کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔

انگریزی اور میٹرک او لیول سسٹم:

موجودہ زمانے میں ایک کامیاب دینی رہبر ورہنما کے لیے دینی علوم کےسرچشمے :عربی،قومی زبان اردو اور ایک بین الاقوامی زبان کے طور پر انگریزی کا حصول لازمی حیثیت رکھتا ہے ۔اس تناظر میں زبان وادب کا فہم اور تحریر اور تقریر کی صلاحیت پر وان چڑھانے کے لیے لسانی اور ادبی بنیادوں کو مستحکم اور وسیع بنانا ضروری ہے ،لہٰذا مذکورالصدر تینوں زبانوں کا حصول ایک عام درجہ تک کافی نہیں ہوگا ،بلکہ ان زبانوں میں اختصاصی مہارتوں تک رسائی لازمی ہوگی ۔
اس ضرورت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے جامعہ بیت السلام میں درسِ نظامی سے پہلے ایک چار سالہ نصاب تجویز کیا گیا ہے ،جس میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ چار سال کے عرصے میں طالب علم عربی ،اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں اچھی استعداد کا حامل بھی ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ جنرل گروپ سے میٹرک او لیول کا امتحان بھی
پاس کرلے ،تاکہ میٹرک او لیول کی سطح تک رائج عصری علوم سے بھی شناسائی ہوسکے ۔واضح رہے کہ جامعہ میں ان زبانوں کی تدریس کے لیے روایتی انداز نہیں اختیا ر کیا گیا،بلکہ الحمد للہ ! جدید تحقیقات پر مبنی طریقۂ تعلیم اپنایا گیا ہے ،جس کی وجہ سے طلبہ بہت کم عرصے میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوجاتے ہیں اور اس ضمن میں سمعی اور بصری آلات سے بھی مدد لی جاتی ہےاوریوں سالوں میں حاصل ہونے والے نتائج مہینوں میں حاصل ہوجاتے ہیں ۔طلبہ کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ اپنی متعلقہ زبانوں میں ہی گفتگو کریں ۔ یعنی عربی سیکھنے والے طالب علم اردو نہ بولیں اور اسی طرح انگریزی سیکھنے والا طالب علم اپنی مادری زبان میں بات نہ کرے، گویا ان طلبہ کے چوبیس گھنٹے اپنی متعلقہ زبان میں گزرتے ہیں ،حتی کہ کھانے اور کھیل کے دوران بھی انہیں کسی دوسری زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس کی نگرانی کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے ۔

لینگویج کورس میں عربی اور انگریزی میں مندرجہ ذیل مہارتوں کے حصول پر زور دیا جاتا ہے :

  • سننا
  • بولنا
  • پڑھنا
  • لکھنا

سالِ اول: سالِ اول میں پرائمری پاس یا اس کے مساوی استعداد کے حامل ایسے بچے کو داخلہ دیا جاتا ہے جس کی عمر13سال سے زیادہ نہ ہواور مکمل ایک سال تک اسے صرف انگریزی اورابتدائی ریاضی ہی پڑھائی جاتی ہے۔اس سال میں انگریزی بول چال اور ابتدائی گرامر پرزیادہ زور دیا جاتا ہے اور انگریزی میں مختلف کتب اورجرائد کا مطالعہ کروایا جاتا ہے ۔

سالِ دوم: دوسرے سال میں طالب علم کو اعلیٰ درجے کی انگریزی پڑھائی جاتی ہے اور انگریزی ادب اور اس کی مختلف اصناف سے روشناس کروایا جاتا ہے ۔
دوسری طرف انہیں ریاضی ،سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین بھی انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں اور تقریباً آٹھویں جماعت کا نصاب مکمل کروایا جاتا ہے۔

سالِ سوم: تیسرے سال میں نویں اور دسویں جماعت کی نصابی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اردو زبان کا ادبی مطالعہ کروایا جاتا ہے ۔اسی سال میں طالب علم نویں جماعت کا امتحان دیتا ہے اور دسویں جماعت کا نصاب مکمل کرلیتا ہے ۔

سالِ چہارم: اس سال صرف عربی زبان پڑھائی جاتی ہے ،عربی بول چال پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے اور ابتدائی صرف ونحو (عربی گرامر) کے ساتھ ساتھ عربی میں مضمون لکھنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔اس طرح طلبہ درسِ نظامی میں آنے سے پہلے ہی انگریزی اورعربی زبان سے متوسط درجے کی واقفیت حاصل کرلیتے ہیں، جس سے انہیں پورے درسِ نظامی کے دوران مدد ملتی ہے ۔اسی سال طلبہ دسویں جماعت کا امتحان بھی دیتے ہیں ۔