|December 13, 2019
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

مقابلوں كى دنىا

جامعہ بیت السّلام عمدہ نظامِ تعلیم اوراعلیٰ نظامِ تربیت کے ساتھ ساتھ اس بات کے لیے بھی فکرمنداورکوشاں رہتاہے کہ کس طرح مستقبل میں بچوں کومعاشرے کاسرگرم فرد بنایاجاسکتاہے؟اورکسی طرح ان میں وہ صلاحیتیں پیداکی جاسکتیں ہیں جوکسی بھی کام یاب فردکے لیے ضروری اور لازمی ہوتی ہیں۔چناں چہ اسی فکرمندی کانتیجہ چھ مقابلوں کی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔ یہ چھ مقابلے حقیقت میں ایسی چھ صلاحیتوں کے مقابلے ہیں جوایک اچھارہنمابننے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اوریہ صفات اگرکسی طالب علم میں پیداہوجائیں تووہ معاشرے کی رہنمائی کے فرائض انشاءاللہ بخوبی سرانجام دے سکے گا۔
وہ مقابلے یہ ہیں

  • مقابلہ جسمانی ورزش
  • مقابلہ تقریر
  • مقابلہ تحریر
  • مقابلہ تجوید
  • مقابلہ حفظِ حدیث
  • مقابلہ حفظِ اشعار

مقابلہ جسمانی ورزش:

علمی مشغلہ ایک ذہنی محنت اورمشقت کانام ہےاورذہن اسی وقت تندرست وتواناہوسکتاہے ، جب جسم تندروست وتواناہو۔عام طورپرطلبہ اس عمرمیں اپنی صحت کاخیال نہیں رکھتے اورجووالدین بچوں کی صحت کے لیے فکرمندرہتےہیں، وہ بھی ان کی غذاکی حدتک صحت کاخیال رکھتے ہیں،لیکن روزانہ کی ورزش اورصبح کی سیرکی پابندی وہ بھی بچوں سے نہیں کرواپاتے۔جامعہ بیت السّلام نے مستقبل کے ان معماروں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئےصبح کی سیرباقاعدگی سےاساتذہ کی نگرانی میں شروع کروائی اوراسی طرح عصرکے بعداساتذہ کی نگرانی میں فٹ بال کھیلنے اورمختلف قسم کی جسمانی ورزشیں کرنے کابھی انتظام کیا۔ مقابلہ صحت کولازمی قراردیا، جس کے ذیل میں دوورزشیں طے کی گئیں:ایک دوڑ اوردوسری ڈپس لگانا،اوراس مقابلے میں اوّل ،دوم اورسوم آنے والوں کے لیے بھاری بھرکم انعامات کااعلان کیاگیا، اس سب کامقصدصرف اورصرف یہ تھاکہ مستقبل کے ان معماروں کی جسمانی صحت اورقوم کے ان سپوتوں کی ذہنی توانائیاں ضائع ہوئے بغیرملت ِاسلام اوراہلِ پاکستان کے کام آجائیں ۔

مقابلہ تقریر:

زبان سےانسان کے دل کی ترجمانی ہوتی ہے ۔انسان کے دل ودماغ میں خواہ کتنے ہی موتی اورگوہرچھپے ہوئےہوں ،اگرعمدہ اسلوب بیان کااسٹیج عطانہ ہوتووہ دردِ نہاں ملک وملت کے سامنے عیاں نہیں ہوپاتا۔یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک وملت کے ان نونہالوں کے اذہان صرف زرخیز ہی نہیں ،بل کہ اس میں قیادت کی مکمل صلاحیت موجودہے،مگران کی صلاحیتِ تقریرکوجِلابخشنے کی ضرورت ہے،جس کے ذریعے یہ اپنی دل سوزی غفلت میں ڈوبے لوگوں کے سامنے کھول کررکھ سکیں ،چناں چہ جامعہ بیت السلام نے اپنے طلبہ کی صلاحیت کونکھارے کے لیے ہرہفتے بزمِ ادب کانظم شروع کیااورطلبہ میں اس دل چسپی کوبرقراررکھنے کے لیے سالانہ مقابلہ تقریرکولازمی قراردیااوراس سب کامقصدطلبہ کے اندازِبیان کوعمدہ سے عمدہ بناناہے تاکہ وہ مستقبل میں منبرومحراب ،علمی مباحثوں اورادبی محفلوں میں اپنے اندرچھپے موتیوں کولوگوں کے ذہنوں میں منتقل کرسکیں اورامت کی قیادت کے فرائض سرانجام دے سکیں۔

مقابلہ تحریر:

جس طرح تقریرواسلوبِ بیان کی ضرورت واہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے،اسی طرح تحریرکی ضرورت سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتا۔دورِ حاضر میں اہل باطل کی طرف سے مسلم معاشرے ہر فکری یلغار کا مقابلہ تحریری صلاحیت ہی کہ ذریعے ممکن ہے ، جسے شُستہ انداز ، بہترین اسلوب اور پرکشش پیرائے میں دین کے پیغام کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالنے کا ہُز آتاہو، وہ طالب علم ہر فردتک ، ہر گھر تک ،ہر اسٹیج تک ،ہر سطح تک اسلام کی ابدی صداقتوں کا پیغام پہنچا سکتا ہے ، وہ امت مسلمہ کاترجمان بن کر اسلامی اقدار ، دینی ثقافت اور مسلمانوں کی معاشرتی تہذیب کا روشن چہرہ اقوامِ عالم کے سامنے عیاں کرکے وراثتِ نبوت کاحق اداکر سکتا ہے ، وہ اپنی فکری وادبی تحریروں کے ذریعے بے چینی کے انگاروں پر لوٹتے اور ذلت کی کھائی میں لُڑھکتے اسلامی معاشرے کو دینی تربیت کا سائبان فراہم کر سکتا ہےچناں چہ جامعہ بیت السلام میں طلبہ کی صلاحیتوں کونکھارنے کے لیے ایک اوراہم مقابلہ انشااورتحریرکاہوتاہے۔

مقابلہ تجوید:

حضورِ اکرم ﷺ نے قرآنِ مجیدکولحونِ عرب اوراچھے لہجوں میں پڑھنے کافرمایاہے۔اورپھرمستقبل میں معاشرے میں منبرومحراب کے تقاضوں کوپوراکرنے اورپنج وقتہ نمازکی امامت کی ذمہ داریوں کواحسن اندازمیں انجام دینے کےلیے طلبہ کرام میں ابھی سے اچھے لہجوں میں قرآن پڑھنے کی صلاحیت پیداکرنے کی ضرورت تھی، اسی اہمیت کے پیشِ نظرجامعہ بیت السلام نے پوراسال مستقل تجویدسکھانے کاانتظام کیااورپھرسال کے آخرمیں مقابلہ تجویدکواپنے بہترین تعلیمی نظام کاحصہ بھی قراردیا۔

مقابلہ حفظِ حدیث:

جس طرح قرآن مجیداوراس کی تعلیمات دینِ اسلام کی بنیادہیں،اسی طرح نبی کریم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ بھی دینِ اسلام کی بنیادہیں۔اوردنیابھرمیں دینی خدمات انجام دینے کے لیے ان کی جابجاضرورت بھی پیش آتی ہے۔قرآن مجیدحفظ کرنے کارجحان توپوری دنیامیں عام ہےاوریہ واقعی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور احسان ہے،لیکن احادیثِ مبارکہ کا حفظ کرنا بھی یقیناًبڑی سعادت کی بات ہے ۔الحمدللہ !جامعہ بیت السّلام کراچی نے طلبہ کرام کوایک ہمہ جہت دین کاداعی اورخادم بنانے کے لیے انہیں احادیثِ مبارکہ کے حفظ کی بھی ترغیب دی اورمقابلہ حفظِ حدیث کواپنے تعلیمی نظام کاحصہ بنایا۔

مقابلہ حفظِ اشعار:

ادب ہرقوم اوراس کی زبان کااہم سرمایہ ہوتاہے۔ اوریہ سرمایہ جس قدراشعاراورمنظومِ کلام میں محفوظ ہوتاہے،نثرمیں اس قدرنہیں ہوتا۔شعراء کرام ایک مصرع یاایک شعرمیں عمدہ تعبیرات، بہترین تشبیہات اوربے مثال تمثیلات کے ذیل میں دریاکوکوزے میں بندکرنے کاملکہ رکھتے ہیں،اپنی مادری زبان پربہترین عبورحاصل کرنے اورتحریروتقریرمیں اسے بھرپوراندازمیں اس کااستعمال سیکھنے کے لیے جامعہ بیت السّلام کراچی نے اپنے طلبہ میں ادبی اشعارکوزبانی یادکرنے کاذوق بھی پیداکیا۔اس ذوق کوجانچنے کے لیے تعلیمی سال کے آخری میں ایک مقابلہ حفظِ اشعارکواپنے تعلیمی نظام کاحصہ قراردیا۔ان مسابقوں کی تیاری کے واسطے روزانہ نو ٹس بورڈپر طلبہ کرام کے لیے منتخب اشعار واحادیث میں سے ایک شعر (اردو اور عربی ) اور ایک حدیث مبارک آویزاں کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جامعہ کے ان تربیتی مقابلوں کوقبولیتِ عامہ عطافرمائے اوران کے ذریعے طلبہ کرام میں بہترین صلاحیتیں پیدافرماکرانہیں دنیابھرمیں دین کی خدمت کرنے کے لیے قبول فرمائے۔آمین