|October 21, 2019
Language
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

تربیت گاہ

تربیتی مراکز:

چونكہ حضرت رئیس الجامعہ زیدہ مجدہٗ طلبہ کی تربیت کے حوالے سے خاص ذوق اور گہری دلچسپی رکھتے ہیں ، اس لىے الحمدللہ!جامعہ میں معىارى تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی اور روحانی تربیت پر بھى خاص توجہ دى جاتى ہے۔

طلبہ کی عبادات ، معمولات، عادات ، ظاہری وضع قطع ، نشست و برخاست اور گفت وشنىد کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں كوتاہى سامنے آنے پر کسی قسم کی نرمی اور چشم پوشی سے کام نہیں لیا جاتا ۔انہیں بار باراس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ غیروں کی نقالی کےبجائے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور صبح سے شام تک كے سارے معمولات اسوۂ نبویﷺ کے سانچے میں ڈھالیں ۔

تربیتی حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ جامعہ مىں دن کا آغاز فجر کے بجائے تہجد سے ہوتاہے ۔دن کی روشنی میں جن طلباکااوڑھنا،بچھوناحصولِ علم ہوتاہے وہ رات کومیدانِ عمل (نمازِ تہجد،تلاوت ،ذکرواذکاراوردعاؤں )کے شہسوار ہوتےہیں ۔

دوسرااہم کام جس کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ یہ کہ جامعہ میں موجود ہر فرد پر روزانہ تین پاروں کی تلاوت لازم ہے اور اس کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ تہجد مىں آدھے پارے كى تلاوت كے علاوہ پانچوں نمازوں سے پہلے اور بعد مىں ایک ایک پاؤ پارے کی تلاوت کی جاتی ہے ،اس طرح معمولی اہتمام سےبغیر کسی مشقت کےتین پاروں کی تلاوت بھی ہوجاتی ہےاور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔

اسی طرح فضائلِ اعمال،آداب المتعلمین اورحیاۃ الصحابہؓ کی ىومىہ تعلىم مىں تمام طلبہ كى شركت لازمى ہے، نىز انہىں اس بات كى بھى ترغىب دى جاتى ہے كہ وہ پڑھائی کے ایّام کی طرح اپنی چھٹیاں بھی اللہ کے راستے(دعوت وتبلیغ) میں گزار کراپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کی بھی فکر کریں ، علما و صلحا كے لباس كو اپنائىں، خاص كر عمامہ پہننے کی عادت ڈالیں،صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھیں ،ہمیشہ سفید لباس زیبِ تن کریں( سفید لباس جامعہ کے تمام طلبہ کے لیے بطورِ یونیفارم لازم ہے)

اسی طرح جامعہ کی طرف سے ہر سال رمضان المبارک میں قرب وجوار کے درجن سے زائد گوٹھوں کی مساجد میں تراویح سنانے اور گوٹھ والوں کی دینی ذہن سازی اور اخلاقی تربیت کے لیے اساتذہ اور طلبہ کی باقاعدہ تشکیل کی جاتی ہے ۔

قرآنی مراکز:

جامعہ بیت السلام كى تعلىمى سرگرمىاں اس كى چار دىوارى تك محدود نہىں ، بلكہ جامعہ خىر و فلاح كا اىسا منبع ہے جس سے پھوٹنے والے چشموں سے وطنِ عزىز كے الحمد للہ چاروں صوبے سىراب ہورہے ہىں۔

’’بىت السلام قرآنی مراکز‘‘ كے قىام كا مقصدملك كے ہر اس خطے مىں قرآن كا نورپھىلانا ہے، جہاں جہالت كے گھٹاٹوپ اندھىروں كا راج ہے، اس سلسلہ مىں ادارے كا مطمحِ نظر ىہ ہے كہ ملک کے طول وعرض میں دس ہزار قرآنی مراکز قائم كركے ہر كچے پكے گھر مىں قرآن كى نعمت كو عام كىا جائے۔

قرآنی مراکز کا یہ مبارک سلسلہ اس وقت ملک کے طول وعرض میں پھیل چکا ہے ۔ بلوچستان كے پانى كى بوند بوند كو ترستے ، آگ اگلتے صحرا ہوں ىا چترال كے ىخ بستہ ہواوؤں كےتھپىڑوں كا سامنا كرتے برف پوش پہاڑ ہوں، الحمد للہ ہر خطے اور كوچے مىں نامساعد حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ىہ مبارك سلسلہ خوب تىزى سے پھىل رہا ہےاور مختصر سى مدت مىں ملك كے چاروں صوبوں کے16ضلعوں اور1 2تحصیلوں کے سینکڑوں دیہاتوں مىں اس وقت تک 313قرآنی مراکز قائم ہوچکے ہیں ۔

ان تمام مراکز کی نگرانی ،ان کے لیے اساتذہ کی تقرری،طلبہ کے امتحانات اور قرآنی مراکز سے متعلق دیگر تمام انتظامی امور’’جامعہ بیت السلام‘‘ میں طے کیے جاتے ہیں ۔

ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تو دینی تعلیم کا انتظام (بفضلہٖ تعالیٰ )ہوتا ہی ہے ،لیکن زمانے کے دھتکارے ہوئے دیہاتوں،حالات کی سنگینیوں کے شکار گاؤں اور غربت کے ستائے ہوئے مضافات کے باسی جو شہری سہولیات کے ساتھ ساتھ دین کی بنیادی تعلیم یہاں تک کہ کلمہ ،نمازاور روزہ سے بھی یکسر ناواقف ہوتے ہیں اور دین کی اچھی خاصی تڑپ رکھنے والے بھی جہاں کام سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔۔۔ایسے علاقوں میں قرآنِ کریم کے نور کو گھر گھر پہنچانا ،جہالت کی اندھیر نگریوں میں ٹھوکریں کھانے والوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرانااور بھٹکی ہوئی آہوں کو سوئے حرم لے چلنا۔۔۔یقیناً موجودہ وقت کا ایک ایسا تجدیدی کارنامہ ہے ،جس کی اہمیت کا اندازہ ہر وہ دردمند مسلمان لگا سکتا ہے جو دین کی خدمت کے سلسلے میں کچھ کرگزرنے کا عزمِ بلند،دلِ پُرسوزاور جذبۂ جواں رکھتا ہو۔