|December 13, 2019
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

داخلے

عمومی ضوابط برائے جملہ درجات

      1.  ہر طالبِ علم كی اخلاقی كیفیت قابلِ قبول ہو۔
      2.  جامعہ كے موجودہ درجات میں سے كسی درجہ میں بھی تعداد ٢۰ سے متجاوز نہ ہو تو بہتر ہے ۔
      3.  آخرى دىے جانے والے امتحان كے نتىجہ كى مصدقہ نقل داخلہ فارم كے ساتھ منسلك كرنا ضرورى ہے۔
      4.  ’’ب‘‘ فارم ، دو عدد حالىہ تصاوىر ، پىدائشى سند اور طالبِ علم ىا سرپرست كے شناختى كارڈ كى اىك نقل فارم كے ساتھ لف كرنا ضرورى ہے۔
      5.  بہتر ىہ ہے كہ تعلىمى سلسلے كى تمام اسناد كى نقول داخلہ فارم كے ساتھ لف كى جائىں۔

 

داخلہ پالیسی برائے جدید طلبہ:

        1. حفاظ لینگویج كورس(ہر دو زبان)
        2.  چار سالہ مىٹرك او لیول سسٹم برائے حفاظ
          1.  طالبِ علم كی عمر تیرہ سال سے زیادہ نہ ہو۔
          2. اردو ، انگرىزى اور رىاضى مىں پرائمرى كى استعداد كا حامل ہو۔
          3.  حفظ پختہ ہونا ضروری ہے، جس كا معیار یہ ہےكہ وہ ایك سیپارہ ایك دن میں پختگی كے ساتھ سنا سكے۔نیز حافظ کو ترجیح دی جائے گی، ( حفظ کا بھی امتحان ہوگا۔)
          4.  اس درجہ میں ایك ذہانت كی جانچ كا امتحان بھی لیا جائے گا، جس میں طالبِ علم كی ذہنی سطح كو جانچا جائے گا، اس امتحان مىں امىدوار كو كوئی نص (حدیث وغیرہ ) بھى دیا جائے گا، جس كو وہ زبانی یاد كركے اسی وقت سنائے گا۔
          5.  اىك تحریری امتحان بھى ہوگا، جس میں عمومی معلومات ، اردو پڑھنا اور لکھنا، ریاضی اور انگلش میں 4 اسکل شامل ہونگے۔

 

        1. متوسطہ سالِ سوم
          1. ساتوىں جماعت كى استعداد كا حامل ہو تو اچھا ہے، ورنہ چھٹى كى اچھى استعداد كا حامل ہو، سابقہ پڑھے ہوئے درجے كا نتىجہ پىش كرنا ہوگا، اس كے ساتھ اس كا امتحان بھی لیا جائے گا۔
          2.  طالبِ علم كی عمر ١٥ سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ١٦ سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا(گنجائش كم ہونے كى بنا پر اس درجے مىں صرف اعلى صلاحىت كے حامل امىدوار كو ہى داخلہ دىا جائے)
          3.  حافظ كو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا جائے گا۔
          4.  ایك فریق میں شركاء كی تعداد ٢۰ سے متجاوز نہ ہو۔
          5. اردو املا اور خط مناسب ہونا ضروری ہے۔

 

        1. لىنگوىج كورس سالِ چہارم(عربى لىنگوىج)
          1. طالبِ علم كی عمر ١٦ سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ١٧ سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
          2. حافظ كو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا جائے گا۔
          3. ایك فریق میں شركاء كی تعداد ٢۰ سے متجاوز نہ ہو، دو فریق بننے كی صورت میں تقسیم اعمار كے اعتبار سے ہوگی۔
          4. میٹرك ىا مڈل تك عصری تعلیم پڑھا ہوا ہو، ان درجات كی سند داخلہ كے وقت پیش كرنا ضروری ہے، اور اس كے ساتھ اس كا امتحان بھی لیا جائے گا۔ متوسطہ میں ٧۰ فیصد اور مڈل میں ٦۰ فیصد درجات كم از كم ہوں۔
          5. اس درجہ میں ایك ذہانت كی جانچ كا امتحان بھی لیا جائے گا، جس میں طالبِ علم كی ذہنی سطح كو جانچا جائے گا۔
          6. اردو املا اور خط مناسب ہونا ضروری ہے۔

 

        1. برائے درجہ اولی
            1. طالبِ علم كی عمر سترہ سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ١٨ سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
            2. حافظ كو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا جائے گا۔
            3. ایك فریق میں شركاء كی تعداد ٢۰ سے متجاوز نہ ہو، دو فریق بننے كی صورت میں تقسیم اعمار كے اعتبار سے ہوگی۔
            4. میٹرك ىا مڈل تك عصری تعلیم پڑھا ہوا ہو، ان درجات كی سند داخلہ كے وقت پیش كرنا ضروری ہے، اور اس كے ساتھ اس كا امتحان بھی لیا جائے گا۔ متوسطہ میں ٧۰ فیصد اور مڈل میں ٦۰ فیصد درجات كم از كم ہوں۔
            5. عربی زبان سے واقفیت ہونا ضرورى ہے۔
            6. اس درجہ میں ایك ذہانت كی جانچ كا امتحان بھی لیا جائے گا، جس میں طالبِ علم كی ذہنی سطح كو جانچا جائے گا۔
            7. اردو املا اور خط مناسب ہونا ضروری ہے۔

          .

 

        1. درجہ ثانیہ
          1. صرف اور نحو كی استعداد مضبوط ہو۔(درجہ كے اعتبار سے)
          2. میٹرك ، مڈل ىا متوسطہ كا سند یافتہ ہو، ان درجات كی سند داخلہ كے وقت پیش كرنا ضروری ہے، لیكن اس كے ساتھ اس كا امتحان نہیں لیا جائے گا۔ متوسطہ میں ٧۰ فیصد اور مڈل میں ٦۰ فیصد درجات كم از كم ہوں۔
          3. صرف و نحو كے علاوہ عربی زبان كی استعداد بھی اچھی ہو۔ (درجہ كے اعتبار سے)
          4. اردو خط اور املا بہتر ہو۔
          5. طالبِ علم كی عمر ١٨سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ١٩سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
          6. حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہوگا۔
          7. حفاظ كا حفظ پختہ ہو (جس كی تفصیل اوپر گزر چكی) یا ناظرہ تجوید كے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔

 

        1. درجہ ثالثہ
          1. ثانىہ كے وفاقى امتحان میں ٧۰% درجات كے ساتھ كامیاب ہوا ہو۔
          2. طالبِ علم كی عمر ١٩سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ٢۰سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
          3. حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہوگا۔
          4. حفاظ كا حفظ پختہ ہو (جس كی تفصیل اوپر گزر چكی) یا ناظرہ تجوید كے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔
          5. املا مكمل درست اور خط بہتر ہو۔
          6. عربی میں كسی قدر تكلم كی صلاحیت كا حامل ہو۔
          7. صرف بہترین اور نحو میں پختگی ہو۔
          8. اہم كتابوں (مختصر القدوري، علم الصيغة، هداية النحو)كا امتحان بھی ہوگا ۔

 

        1. درجہ رابعہ
          1. ثانىہ كے وفاق كے امتحان میں ٧۰% درجات كے ساتھ كامیاب ہوا ہو۔
          2. طالبِ علم كی عمر ٢۰سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ٢١سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
          3. حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہوگا۔
          4. حفاظ كا حفظ پختہ ہو (جس كی تفصیل اوپر گزر چكی) یا ناظرہ تجوید كے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔
          5. املا مكمل درست اور خط بہتر ہو۔
          6. عربی میں تكلم كی صلاحیت كا حامل ہو۔
          7. صرف اور نحو میں پختگی ہو۔
          8. اہم كتابوں (كنز الدقائق، كافية، أصول الشاشي)كا امتحان بھی ہوگا ۔

 

        1. درجہ خامسہ
          1. رابعہ كے وفاق كے امتحان میں ٧۰% درجات كے ساتھ كامیاب ہوا ہو۔
          2. طالبِ علم كی عمر ٢١سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ٢٢سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
          3. حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہوگا۔
          4. حفاظ كا حفظ پختہ ہو (جس كی تفصیل اوپر گزر چكی) یا ناظرہ تجوید كے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔
          5. املا مكمل درست اور خط بہتر ہو۔
          6. عربی میں تكلم كی اچھى صلاحیت كا حامل ہو۔
          7. صرف اور نحو میں پختگی ہو۔
          8. اہم كتابوں (شرح الوقاية، نور الأنوار، شرح الجامي)كا امتحان بھی ہوگا ۔

 

      1. درجہ سادسہ
        1. خامسہ كے وفاق كے امتحان میں ٧۰% درجات كے ساتھ كامیاب ہوا ہو۔
        2. طالبِ علم كی عمر ٢٢سال سے زیادہ نہ ہو، جبكہ جس طالبِ علم كی عمر ٢٣سال ہوگی وہ قابلِ غور ہوگا۔
        3. حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہوگا۔
        4. حفاظ كا حفظ پختہ ہو (جس كی تفصیل اوپر گزر چكی) یا ناظرہ تجوید كے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔
        5. املا مكمل درست اور خط بہتر ہو۔
        6. عربی میں تكلم كی اچھى صلاحیت كا حامل ہو۔
        7. صرف اور نحو میں پختگی ہو۔
        8. اہم كتابوں (الهداية ، مختصر المعاني ، الحسامي)كا امتحان بھی ہوگا ۔

 

داخلہ پالیسی برائے قدیم طلبہ:

عمومی ضوابط برائے جملہ درجات

      1. ٦۰% سے كم درجات حاصل كرنے والے طلبہ كا سالِ نو میں داخلہ نہیں ہوگا، سوائے ان طلبہ كے جو عملی اور اخلاقی طور پر اعلی كردار كے حامل ہوں ، ان كا معاملہ مشورہ سے طے كیا جاسكے گا، تاہم ٤۰% درجات كے ساتھ كامیابی بہرحال ضروری ہے۔
      2. جن طلبہ كی اخلاقی طور پر شكایات ہوں گی، ان كا داخلہ ہرگز نہیں ہوسكے گا، اور سالانہ امتحانات سے پہلے فیصلہ كركے انہیں سالانہ تعطیلات میں منعقدہ دورہ سے پہلے ہی فارغ كردیا جائے گا۔
      3. دورانِ سال عربى زبان مىں تكلم كى پابندى كى ہو۔ بار بار تنبىہ كے باوجود جو طلبہ پابندى نہىں كرتے ان كا فىصلہ مشورے سے طے كىا جائے گا۔
      4. اخلاقی كیفیت میں تكبىرِ اولى كے ساتھ نماز كى پابندى، اساتذہ كی اطاعت، ساتھیوں كے ساتھ حسنِ سلوك اور اچھا برتاؤ، صفائی ستھرائی، بڑی یا چھوٹی عمر كے طلبہ كے ساتھ عدم اختلاط اور جامعہ كے عمومی اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے اصول و ضوابط كی پاسداری شامل ہے۔