|September 23, 2019
Language
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

انگریزی زبان کے کورس اور میٹرک /اودرجے کے نظام کا محکمہ

موجودہ زمانے میں ایک کامیاب دینی رہبر ورہنما کے لیے دینی علوم کےسرچشمے :عربی،قومی زبان اردو اور ایک بین الاقوامی زبان کے طور پر انگریزی کا حصول لازمی حیثیت رکھتا ہے ۔اس تناظر میں زبان وادب کا فہم اور تحریر اور تقریر کی صلاحیت پر وان چڑھانے کے لیے لسانی اور ادبی بنیادوں کو مستحکم اور وسیع بنانا ضروری ہے ،لہٰذا مذکورالصدر تینوں زبانوں کا حصول ایک عام درجہ تک کافی نہیں ہوگا ،بلکہ ان زبانوں میں اختصاصی مہارتوں تک رسائی لازمی ہوگی ۔
اس ضرورت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے جامعہ بیت السلام میں درسِ نظامی سے پہلے ایک چار سالہ نصاب تجویز کیا گیا ہے ،جس میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ چار سال کے عرصے میں طالب علم عربی ،اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں اچھی استعداد کا حامل بھی ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ جنرل گروپ سے میٹرک کا امتحان بھی

پاس کرلے ،تاکہ میٹرک کی سطح تک رائج عصری علوم سے بھی شناسائی ہوسکے ۔
واضح رہے کہ جامعہ میں ان زبانوں کی تدریس کے لیے روایتی انداز نہیں اختیا ر کیا گیا،بلکہ الحمد للہ ! جدید تحقیقات پر مبنی طریقۂ تعلیم اپنایا گیا ہے ،جس کی وجہ سے طلبہ بہت کم عرصے میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوجاتے ہیں اور اس ضمن میں سمعی اور بصری آلات سے بھی مدد لی جاتی ہےاوریوں سالوں میں حاصل ہونے والے نتائج مہینوں میں حاصل ہوجاتے ہیں ۔طلبہ کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ اپنی متعلقہ زبانوں میں ہی گفتگو کریں ۔ یعنی عربی سیکھنے والے طالب علم اردو نہ بولیں اور اسی طرح انگریزی سیکھنے والا طالب علم اپنی مادری زبان میں بات نہ کرے، گویا ان طلبہ کے چوبیس گھنٹے اپنی متعلقہ زبان میں گزرتے ہیں ،حتی کہ کھانے اور کھیل کے دوران بھی انہیں کسی دوسری زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس کی نگرانی کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے ۔
لینگویج کورس میں عربی اور انگریزی میں مندرجہ ذیل مہارتوں کے حصول پر زور دیا جاتا ہے :

  • سننا
  • بولنا
  • پڑھنا
  • لکھنا
    سالِ اول: سالِ اول میں پرائمری پاس یا اس کے مساوی استعداد کے حامل ایسے بچے کو داخلہ دیا جاتا ہے جس کی عمر13سال سے زیادہ نہ ہواور مکمل ایک سال تک اسے صرف انگریزی اورابتدائی ریاضی ہی پڑھائی جاتی ہے۔اس سال میں انگریزی بول چال اور ابتدائی گرامر پرزیادہ زور دیا جاتا ہے اور انگریزی میں مختلف کتب اورجرائد کا مطالعہ کروایا جاتا ہے ۔

سالِ دوم: دوسرے سال میں طالب علم کو اعلیٰ درجے کی انگریزی پڑھائی جاتی ہے اور انگریزی ادب اور اس کی مختلف اصناف سے روشناس کروایا جاتا ہے ۔دوسری طرف انہیں ریاضی ،سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین بھی انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں اور تقریباً آٹھویں جماعت کا نصاب مکمل کروایا جاتا ہے۔

سالِ سوم: تیسرے سال میں نویں اور دسویں جماعت کی نصابی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اردو زبان کا ادبی مطالعہ کروایا جاتا ہے ۔اسی سال میں طالب علم نویں جماعت کا امتحان دیتا ہے اور دسویں جماعت کا نصاب مکمل کرلیتا ہے ۔

سالِ چہارم: اس سال صرف عربی زبان پڑھائی جاتی ہے ،عربی بول چال پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے اور ابتدائی صرف ونحو (عربی گرامر) کے ساتھ ساتھ عربی میں مضمون لکھنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔اس طرح طلبہ درسِ نظامی میں آنے سے پہلے ہی انگریزی اورعربی زبان سے متوسط درجے کی واقفیت حاصل کرلیتے ہیں، جس سے انہیں پورے درسِ نظامی کے دوران مدد ملتی ہے ۔اسی سال طلبہ دسویں جماعت کا امتحان بھی دیتے ہیں ۔