|November 12, 2019
Language
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

قرآنی مراکز

جامعہ بیت السلام كى تعلىمى سرگرمىاں اس كى چار دىوارى تك محدود نہىں ، بلكہ جامعہ خىر و فلاح كا اىسا منبع ہے جس سے پھوٹنے والے چشموں سے وطنِ عزىز كے الحمد للہ چاروں صوبے سىراب ہورہے ہىں۔
’’بىت السلام قرآنی مراکز‘‘ كے قىام كا مقصدملك كے ہر اس خطے مىں قرآن كا نورپھىلانا ہے، جہاں جہالت كے گھٹاٹوپ اندھىروں كا راج ہے، اس سلسلہ مىں ادارے كا مطمحِ نظر ىہ ہے كہ ملک کے طول وعرض میں دس ہزار قرآنی مراکز قائم كركے ہر كچے پكے گھر مىں قرآن كى نعمت كو عام كىا جائے۔
قرآنی مراکز کا یہ مبارک سلسلہ اس وقت ملک کے طول وعرض میں پھیل چکا ہے ۔ بلوچستان كے پانى كى بوند بوند كو ترستے ، آگ اگلتے صحرا ہوں ىا چترال كے ىخ بستہ ہواوؤں كےتھپىڑوں كا سامنا كرتے برف پوش پہاڑ ہوں، الحمد للہ ہر خطے اور كوچے مىں نامساعد حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ىہ مبارك سلسلہ خوب تىزى سے پھىل رہا ہےاور مختصر سى مدت مىں ملك كے چاروں صوبوں کے16ضلعوں اور1 2تحصیلوں کے سینکڑوں دیہاتوں مىں اس وقت تک 313قرآنی مراکز قائم ہوچکے ہیں ۔
ان تمام مراکز کی نگرانی ،ان کے لیے اساتذہ کی تقرری،طلبہ کے امتحانات اور قرآنی مراکز سے متعلق دیگر تمام انتظامی امور’’جامعہ بیت السلام‘‘ میں طے کیے جاتے ہیں ۔
ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تو دینی تعلیم کا انتظام (بفضلہٖ تعالیٰ )ہوتا ہی ہے ،لیکن زمانے کے دھتکارے ہوئے دیہاتوں،حالات کی سنگینیوں کے شکار گاؤں اور غربت کے ستائے ہوئے مضافات کے باسی جو شہری سہولیات کے ساتھ ساتھ دین کی بنیادی تعلیم یہاں تک کہ کلمہ ،نمازاور روزہ سے بھی یکسر ناواقف ہوتے ہیں اور دین کی اچھی خاصی تڑپ رکھنے والے بھی جہاں کام سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔۔۔ایسے علاقوں میں قرآنِ کریم کے نور کو گھر گھر پہنچانا ،جہالت کی اندھیر نگریوں میں ٹھوکریں کھانے والوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرانااور بھٹکی ہوئی آہوں کو سوئے حرم لے چلنا۔۔۔یقیناً موجودہ وقت کا ایک ایسا تجدیدی کارنامہ ہے ،جس کی اہمیت کا اندازہ ہر وہ دردمند مسلمان لگا سکتا ہے جو دین کی خدمت کے سلسلے میں کچھ کرگزرنے کا عزمِ بلند،دلِ پُرسوزاور جذبۂ جواں رکھتا ہو۔