|September 23, 2019
Language
NEWS
تعمیر بیت ہمیں سلام ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے
حدیث حفظ مقابلہ جلد ہی آنے والے
جلد ہی طالب علم رائے ویک میں شرکت کرنے والے ہىں

شعبۂ تحفیظ القرآن

قرآن كرىم اللہ تعالى كى نازل كردہ وہ عظىم كتاب ہے، جس كى حفاظت كا ذمہ اللہ تعالى نے خود لىا ہے اور اللہ تعالىٰ كے دستِ قدرت مىں ہے كہ كسى بھى انسان كو ذرىعہ بنائے بغىر وہ اس كتاب كے ہر حرف اور حركت كو محفوظ ركھے، لىكن اللہ تعالىٰ كا ہزارہا شكر ہے كہ اس نے اس عظىم كام كے لىے اپنے بندوں كوذرىعہ و سبب بناىا اور ىہ ہمارى انتہائى خوش نصىبى اور نىك بختى ہوگى كہ ہم ىا ہمارا بچہ قرآن كى حفاظت كرنے والے لشكر كے سپاہى بن جائىں۔
جامعہ مىں قائم اس شعبے مىں اس وقت الحمد للہ آٹھ کلاسوں میں تقرىباً 185طلبہ قرآن ِكرىم كے نور سے اپنے سىنوں كو منوّر كررہے ہىں، جن كى تعلىم و تربىت كے واسطے 11ساتذۂ كرام شب و روز سرگرم ِ عمل رہتے ہىں۔

جامعہ کی ترجیحی بنیادوں پر ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہےکہ اس شعبہ مىں تعلىم کے لیے جہاں تک ممکن ہوسکے علماءاور مفتیانِ کرام ہی کی خدمات حاصل کی جائیں ،تاکہ وہ طلبہ کو صرف الفاظ کی ادائیگی ،تجوید اور تحسین کا ہی علم نہ سکھائیں ،بلکہ وہ اس كے ساتھ طلبہ كى ذہنى تعمىر ، اخلاقِ حسنہ كى تربىت، بنىادى مسائل اور مسنون دعاؤں سےبھى طلباکوروشناس کریں ۔

اب تك الحمد للہ كل 52بچے حفظِ قرآن پاك كى سعادت حاصل كر چكے ہىں۔
جامعہ کے شعبۂ حفظ مىں طلبہ کو عربى لہجہ سکھانے اور تلفظ کی ادائیگی مىں عمدگى پىدا كرنے كى خاطر استاذ کی تربیت کے ساتھ ساتھ روزانہ 20سے25 منٹ عرب قرّاء میں سے "قاری صدیق منشاوی،شیخ ایوب ،شیخ مشاری بن راشدالعفاسی" کی تلاوت بھی سنائی جاتی ہے جس کے بعد استاذ کی نگرانی میں ہر طالب علم عربی لہجے میں پڑھنے کی مشق کرتا ہے ، جس كى بدولت طلبہ كے لہجوں مىں بہت بہترى آئى ہے۔ فلله الحمد!
جامعہ مىں بچوں کو قرآن اچھے اندازمیں پختہ یاد کرنے كا شوق پیدا کرنے کے لیے ہر جمعرات کے دن ان کے درمیان ایک مسابقہ(مقابلہ) رکھا جاتا ہے ،جس میں ہر بچے کا حصہ لینا ضروری ہوتا ہے ۔شعبۂ حفظ کا کوئی ایک استاذ ہر بچے کے لیے تین تین سوال تیار کرتا ہے ،جبکہ دو استاذ منصف کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔اس طرح بچے کی منزل کا بھی امتحان ہوجاتا ہے اور اس میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔
شعبۂ حفظ میں بڑے امتحان دو ہی ہوتے ہیں :ششماہی اور سالانہ،جن کے لیے ممتحنین اساتذہ باہر سے مدعو کیے جاتے ہیں ،لیکن اس کے علاوہ ہر ماہ کے آخر میں بچوں کا ایک ماہانہ جائزہ بھی ہوتا ہے جو کہ شعبۂ حفظ کے اساتذہ خود ہی آپس میں اىك دوسرے كى درسگاہ كا لیتے ہیں ،جس سے بچوں کی کیفیت اساتذہ کے سامنے آتی رہتی ہے اور بچے کی صحیح تعلیم وتربیت میں معاون ومددگا ر بنتی ہے۔

چونكہ حفظ كے طلبہ كا شعور اس درجے كا پختہ نہىں ہوتا، اور نوعمرى كى وجہ سے ان مىں كسى حد تك فطرتاً لاابالى پن بھى پاىا جاتا ہے، اس لىے ان كى عادات ، لباس، گفت و شنىد، تعلقات وغىرہ پر كڑى نگاہ ركھى جاتى ہے۔ درسگاہ مىں تو طلبہ اساتذہ كى نگاہوں كے سامنے ہى ہوتے ہىں ، مزىد ىہ كہ ہر طالبِ علم كے لىے صبح كى دوڑ اور شام كا كھىل لازمى ہے، جس مىں الحمد للہ اساتذۂ كرام بھى تربىت كى غرض سے شرىك رہتے ہىں، اسى طرح تىنوں وقت كاكھانا بھى اساتذۂ كرام طلبہ كے ساتھ ہى تناول فرماتے ہىں اور موقع بموقع كھانے كى سنتىں اور آداب كى طرف توجہ دلاتے رہتے ہىں۔

قرآنی کمپیوٹر:

شعبۂ تحفیظ القرآن کی ایک ذیلی شاخ ’’قرآنی کمپیوٹر ‘‘ بھی ہے ،اس میں ذہین اور باصلاحیت بچوں کو اس طور پر قرآن یا د کرایا جاتا ہے كہ صرف آیت نمبر اور سورت نمبر بتلاکر طالبِ علم سے سوال كرنے پر نہ صرف يہ كہ وہ پوچھى گئى آیت سناتا ہے،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تىن چىزوں كى تفصىل بتاتا ہے(١) منزل نمبر اور اس كے حروف، الفاظ، آىات، ركوع، صفحات اور سورتوں كى تعداد (٢) پارہ نمبر اور پارے كے حروف، الفاظ، آىات، ركوع، صفحات اور سورتوں كى تعداد (٣) سورت كا نام، اس کےحروف، الفاظ، آىات، ركوع اور صفحات كى تعداد،نیزہرصفحہ کی ابتدائی اورآخری آیت کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پڑھی ہوئی آیت سے پچھلی آیات کی نشاندہی بھی بچہ کرلیتاہے۔

اس سے جہاں بچے کی منزل پختہ ہوتی ہے ،وہیں ىہ بات بھى روزِ روشن كى طرح آشكارا ہوجاتى ہے كہ قرآن کریم اللہ تعالىٰ كى نازل كردہ وہ سچى كتاب ہے كہ جس كے عجائب و غرائب رہتى دنىا تك باقى رہىں گے ۔

اب تک الحمدللہ کل 2 بچے قرآن کریم کو کمپیوٹر کے اندازمیں اپنے سینوں میں محفوظ کر چکے ہیں ۔